Urdu Gazal

غزل

خوب شعلوں کو ہوا دی اُس نے
آگ پانی میں لگا دی اُس نے

ڈائری لے کے مِری چپکے سے
اپنی تصویر بنا دی اُس نے

کس کے دم سے ہے قیامت برپا
کس کو لکھّا ہے فسادی اُس نے

دل ہُوا اور پریشان مِرا
جب کبھی دل سے دعا دی اُس نے

وجہِ بے خوابی بتا کر مجھ کو
نیند میری بھی اُڑا دی اُس نے

راہ ہموار کہاں ہو پائی
پھر سے دیوار اُٹھا دی اُس نے

ہر طرف ایک ہی افسانہ ہے
کیسی پھیری ہے منادی اُس نے

اس کو لگتا ہے بہا کر آنسو
پیٖت کی ریٖت نبھا دی اُس نے

میں نے اِک بات کہی تھی راغبؔ
بے سبب بات بڑھا دی اُس نے

Post a Comment

0 Comments